23 فروری 2013 - 20:30

شام خصوصا دارالحکومت دمشق میں بڑھتی ہوئی دہشتگردانہ کارروائیوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔

ابنا: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان  کی مون اور شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اخضر ابراہیمی نے بھی ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ اخضر ابراہیمی نے جمعرات کے دن شام کے دارالحکومت دمشق میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعہ کے دن دمشق شہر میں کۓ جانے والے بم دھماکے جنگي جرائم ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وحشیانہ اقدام عالمی قوانین کے مطابق جنگي جرم ہے اور اس کا کوئي جواز نہیں ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب یورپی حکام خصوصا امریکہ دھوکے دہی پر مبنی اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دہشتگردوں کی کارروائيوں کی مذمت پر مبنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہر طرح کے فیصلے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کۓ جانے کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بچوں اور خواتین سمیت شام کے سیکڑوں شہریوں کے جاں بحق ہونے پر منتج ہونے والے دہشتگردانہ اقدام کی مذمت میں ایک بیان جاری کرنے سے بھی عاجز ہے۔جس پر عالمی رائے عامہ ، شام کے عوام اور حکام نیز خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے بھی تنقید کی ہے۔ اس سلسلے میں روس کے وزیر خارجہ نے شام میں دہشتگردانہ واقعات کی مذمت میں بیان جاری کۓ جانے کے سدراہ ہونے کے امریکہ کے اقدام کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ سرگئي لاوروف نے ماسکو میں چینی وزیر خارجہ یانگ جیہ چی کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ روس نے شام میں دہشتگردانہ اقدام کی مذمت کۓ جانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مذمتی بیان جاری کۓ جانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیا جانا مایوس کن ہے۔
 شام کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ شام میں دہشتگردانہ کارروائیوں کا نظر انداز کیا جانا قابل قبول نہیں ہے۔ شام کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام خطوط ارسال کۓ ہیں جن میں آیا ہے کہ علاقائی اور عالمی طاقتیں شام کے واقعات میں ملوث ہیں اور شام میں کی جانے والی دہشتگردانہ کارروائیوں کا کوئي جواز نہیں ہے۔
شام کی وزارت خارجہ کے بیان میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ شام میں کۓ جانے والے دہشتگردانہ واقعات عالمی برادری کی ساکھ پرکھنے کی کسوٹی ہیں اور ان اقدامات کا نظر انداز کیاجانا نہ صرف اخلاقی کے اعتبار سے قابل قبول نہیں ہے بلکہ یہ شام میں دہشتگردی کے شکار افراد اور ان کے اہل خانہ کی مشکلات اور تکالیف کے نظر انداز کۓ جانے کے مترادف ہے۔
شامی وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہےکہ شام میں دہشتگردوں کی کارروائيوں کے نظر انداز کۓ جانے سے عالمی دہشتگردی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دوغلے پن کی کی عکاسی ہوتی ہے اور اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض علاقائي اور عالمی طاقتیں منظم انداز میں شام میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہیں اور انھوں نے شام کے شہریوں کو اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔  

.......

/169